کانپور ،26مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سی پی ایم کے ایک بڑے لیڈر نے ملک کی فوج کو لے کر بیان دیا ہے۔ سی پی ایم کے ریاست سیکرٹری کوڈی یر ی بال کرشنا نے جمعہ کو فوج پر الزام لگاتے ہوئے متنازعہ بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اگر پوری طاقت دے دی جاتی ہے تو وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ فوج کسی بھی خاتون کی عصمت دری کر سکتی ہے، کسی کو گولی مار سکتی ہے لیکن لوگ ان سے سوال نہیں کر سکتے ہیں۔
کوڈی یری نے کہا کہ اگر کانپور میں فوج لائی جاتی ہے تو فوج اور شہریوں کے درمیان تصادم ہوگا۔ فوج کچھ بھی کر سکتی ہے، چار سے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ دیکھنے پر انہیں گولی مار سکتی ہے، وہ کسی بھی خاتون کے ساتھ آبروریزی کر سکتی ہے، کسی کو ان سے سوال کرنے کا حق نہیں، جس بھی ریاست میں فوج ہے، وہاں کی یہی صورت حال ہے۔ بتا دیں کہ کننور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکن چوراکڈ بیجو کی سی پی ایم کے کارکنوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی نے کننور میں افسپا (آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ) لگانے کی مانگ کی تھی۔وہیں بالا کرشنن کی پارٹی سی پی ایم نے ان کے بیان کی حمایت کی ہے۔ پارٹی کے ایم پی ایم بی راجیش نے بالا کرشنن کی بات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ بات شمال مشرقی اور کشمیر کے ان علاقوں کے بارے میں کہیں، جہاں پرافسپا لاگو ہے۔